ابنا: رہبرانقلاب اسلامی نے خطے کی اسلامی بیداری کا سرچشمہ اسلامی انقلاب کو قرار دیتے ہوۓ فرمایا کہ عالمی سطح پر اس اسلامی بیداری کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مزید فرمایاکہ امریکہ کی زیر قیادت سامراجی محاذ بہت اچھی طرح سے جانتا ہےکہ ایران کا اسلامی انقلاب خطے میں جاری عوامی تحریکوں کے لۓ مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لۓ یہ سامراجی محاذ اس نمونۂ عمل کو ایک ناکام تجربہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ثابت قدمی ، خود مختاری اور عزت طلبی اسلامی بیداری کے تین اہم رکن ہیں جو درحقیقت تسلط کی نفی اور منہ زور طاقتوں کے تسلط کے سامنے ڈٹ جانے سے عبارت ہیں۔ اس لۓ سامراجی طاقتیں انسانی حقوق اور جمہوریت جیسے حربوں کو استعمال کرکے خطے کی اقوام کی تحریکوں کو ختم کرنا یا اپنی پٹھو حکومتیں قائم کرکے ان تحریکوں کو اصل راستے سے ہٹانا اور ان تحریکوں کے اثرات کو کم از کم اور عارضی بنا دینا چاہتی ہیں۔ لیکن گزشتہ تین عشروں کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران نے جو عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ اسلامی انقلاب کے مقاصد اور حقیقی اقدار سے آگاہ ملتوں کے لۓ جانی پہچانی ہیں۔ اور انہی کامیابیوں نے ان اقوام کو حوصلہ عطا کیا ہے ۔ اور ان کے دلوں کی امید کی کرن روشن کی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی کامیابیوں سے آگاہی کے سبب ہی دنیا بھر خصوصا خطے کی مظلوم اقوام کی بیداری میں وسعت آئي ہے۔ بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہےکہ آج کی دنیا میں تمام اقوام کا آپس میں قریبی ربط پایا جاتا ہے اور ان سب کی تقدیر ایک دوسری سے جڑی ہوئي ہے۔ اس لۓ یورپ کے تمام تر پرپیگنڈے ، اس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کۓ جانے اور اسلام سے لوگوں کو ڈرانے کے باوجود اسلامی انقلاب نے دنیا کی دوسری اقوام پر جو اثرات مرتب کۓ ہیں وہ ناقابل انکار ہیں۔ اور ان عظیم تبدیلیوں کا ہمہ گیر اور گہرائي کے ساتھ جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ بتیس برسوں کے دوران مسلط کردہ جنگ اور وسیع پیمانے پر لگائی جانے والی پابندیوں کا ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کرکے تمام سازشوں کو ناکام بنادیا۔ یہ ثابت قدمی اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام اور حکام کی بیداری کا ہی نتیجہ تھی۔ لیکن اس کے باوجود دشمن نے ہمیشہ یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اسلامی اقدار اور انقلاب اسلامی کے اصولوں پرعمل کے ذریعے ترقی ممکن نہیں ہے۔ حالانکہ اس پروپیگنڈے کے برعکس ایران نے جو عظیم ترقی کی ہے وہ دباؤ کا مقابلہ کرکے ہی کی ہے۔ ایران نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں جو ترقی کی ہے اس کی وجہ سے ایران ایٹمی ٹیکنالوجی کے حامل معدودے چند ممالک کی صف میں شامل ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود سامراج کی جانب سے روکاوٹیں کھڑی کۓ جانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ایران کے دشمن جمہوریت اور انسانی حقوق کے دفاع کے بہانے بزعم خویش ایران کی ترقی و پیشرفت کی راہ میں حائل ہونے اور خطے اور دنیا کی اقوام پر انقلاب اسلامی کے اثرات کی روک تھام کے درپے ہیں۔
/110